ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امیش جادھو کے استعفے پر اسپیکر کا فیصلہ محفوظ، استعفے کے متعلق جادھو کے حلقے کے ووٹروں سے رائے طلب

امیش جادھو کے استعفے پر اسپیکر کا فیصلہ محفوظ، استعفے کے متعلق جادھو کے حلقے کے ووٹروں سے رائے طلب

Tue, 26 Mar 2019 12:47:17    S.O. News Service

بنگلورو،26؍مارچ(ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی سے باغی کانگریس رکن اسمبلی امیش جادھو کے استعفے کو منظور کرنے یا نہ کرنے کے متعلق اسمبلی اسپیکر رمیش کمار نے آج اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ تاریخ میں پہلی بار اسمبلی کی درمیانی مدت استعفیٰ دینے والے رکن اسمبلی کے استعفے کو منظور کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں رمیش کمار نے آج ودھان سودھا میں کھلی سماعت کی اور اس موقع پر امیش جادھو کے حلقے کے کچھ لوگوں کو طلب کرکے رکن اسمبلی کے استعفے کے متعلق ان کے تاثرات معلوم کئے تو سب نے امیش جادھو کے استعفے کی مخالفت کی اور ان سے گزارش کی کہ وہ رکن اسمبلی بنے رہیں۔حلقے کے عوام نے انہیں پانچ سالوں کے لئے چناہے۔ چھ سات ماہ بعد ہی اگر وہ استعفیٰ دے دیں گے تو عوام پر ایک اور ضمنی انتخاب مسلط ہوگا اور ایسانہیں ہونا چاہئے۔ آج ودھان سودھا کی کمیٹی روم میں اسپیکر رمیش کمار نے مستعفی رکن امیش جادھو کی موجودگی میں ان کے حلقے کے عوام کے بیانات لئے سبھی نے یہی کہاکہ امیش جادھو کو کسی صورت میں استعفیٰ نہیں دیناچاہئے بلکہ اپنے حلقے کی نمائندگی جاری رکھنی چاہئے۔ امیش جادھوکے وکیل سندیپ پاٹل نے اس موقع پر بتایا کہ امیش جادھو نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا ہے اسی لئے یہ استعفیٰ منظور کرلینا چاہئے۔ اگر اسپیکر کو اس بات پر اطمینان نہیں ہے کہ یہ استعفیٰ رضاکارانہ ہے تو اس کی بھی صراحت کی جانی چاہئے۔ اسپیکر کی طرف سے حلقے کے عوام سے مشاورت کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے سندیپ پاٹل نے کہاکہ رضاکارانہ طور پر دئے جانے والے استعفے کے لئے کسی سے مشاورت کی قانون میں گنجائش نہیں ہے۔ اس مرحلے میں اسپیکر نے جمہوری تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ نمائندوں کا انتخاب عوام پانچ سالوں کے لئے کرتے ہیں ، اگر اپنے مفاد کے لئے یہ لوگ ہر چھ ماہ اور سال میں استعفے دینے لگیں تو پھر عوام کی نمائندگی کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ انہوں نے اس کے لئے عوامی نمائندگان قانون کا حوالہ دیا اور کہاکہ حلقے کے عوام سے مشورہ کرنے کا اقدام قانون کے عین مطابق ہے۔ اس مرحلے میں امیش جادھو کے وکیل نے کہاکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی اگر استعفیٰ دے تو ایک ہفتے کے اندر اسے منظور کرلینا چاہئے۔ اسپیکر نے اس مرحلے میں واضح کیا کہ امیش جادھو کے استعفیٰ دینے سے پہلے ہی ان کے خلاف انسداد پارٹی بدلی قانون کے تحت نااہلی کی عرضی دائر کی گئی ہے۔ اسی لئے جب تک اس عرضی کو نپٹالیا نہیں جاتا استعفیٰ منظور کرنے کی گنجائش موجود نہیں۔ اس معاملے پر اسپیکر اور امیش جادھو کے وکیل میں کئی امور پر بحث ہوئی اور یکے بعد دیگر ے رمیش کمار نے تملناڈو اور دیگر ریاستوں میں اسپیکروں کی طرف سے صادرفیصلوں کا حوالہ دیا اور کہاکہ حلقے کے عوام سے مشورے کا انہیں قانون کے تحت مکمل اختیار ہے۔ 
 


Share: